1 ازدواجی زندگی اور مثبت توقعات کی طاقت



ازدواجی زندگی اور مثبت توقعات کی طاقت
جرمن مفکر یوان وولف گانگ فان گوئٹے کا  قول ہے:
"انسان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو جیسا وہ بن سکتا ہے، تو وہ ویسا ہی بننے کی کوشش کرے گا۔"
یہ محض ایک فلسفیانہ جملہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات کا ایک بنیادی اصول ہے۔ انسان صرف اپنی صلاحیتوں سے نہیں بنتا، بلکہ ان توقعات سے بھی تشکیل پاتا ہے جو اس کے قریب ترین لوگ اس سے وابستہ کرتے ہیں۔ جس پر اعتماد کیا جائے، وہ اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کرتا ہے، اور جسے مسلسل اس کی کمزوریاں یاد دلائی جائیں، وہ رفتہ رفتہ خود کو بھی انہی کمزوریوں کا مجموعہ سمجھنے لگتا ہے۔
شاید اسی حقیقت کو ازدواجی زندگی سے زیادہ کسی اور رشتے میں محسوس نہیں کیا جا سکتا۔
گھر دراصل  ان رویوں اور الفاظ سے بنتا ہے جو روزانہ اس کی فضا میں گردش کرتے ہیں۔ بعض گھروں میں گفتگو دعا کا اثر رکھتی ہے؛ وہاں حوصلہ ہے، احترام ہے اور اعتماد ہے۔ ایسے گھروں میں انسان باہر کی دنیا کی تھکن اتار دیتا ہے۔ لیکن بعض گھروں میں الفاظ آہستہ آہستہ دیواروں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ طنز، تحقیر اور مسلسل تنقید محبت کو ختم نہیں کرتیں، مگر اس کی حرارت ضرور چھین لیتی ہیں۔
انسان روزانہ ایک ایسی دنیا سے لوٹتا ہے جہاں ہر قدم پر اس کا امتحان لیا جاتا ہے۔ دفتر اس سے کارکردگی مانگتا ہے، کاروبار مقابلے کا تقاضا کرتا ہے اور معاشرہ ہر وقت اس کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ ایسے میں اگر گھر بھی ایک عدالت بن جائے، جہاں ہر غلطی پر فردِ جرم عائد ہو اور ہر ناکامی کو شخصیت کا مستقل تعارف بنا دیا جائے، تو سکون آخر کہاں ملے گا؟
گھر کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ وہاں انسان کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسے یقین ہو کہ اگر پوری دنیا اس سے سوال کر رہی ہے تو کم از کم ایک انسان ایسا ضرور ہے جو اس کی نیت، اس کی جدوجہد اور اس کے امکانات پر یقین رکھتا ہے۔
بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ میاں بیوی ایک دوسرے کو ایک زندہ اور ارتقا پذیر شخصیت کے بجائے چند عادتوں اور چند غلطیوں کے آئینے میں دیکھنے لگتے ہیں۔ ماضی کی لغزشیں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور ایک جملہ بارہا سنائی دیتا ہے: "تم کبھی نہیں بدلو گے۔"
شاید رشتوں کے لیے اس سے زیادہ مایوس کن فیصلہ کوئی اور نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ وقت اسے بدلتا ہے، تجربات اسے پختہ کرتے ہیں، ذمہ داریاں اسے سنجیدہ بناتی ہیں اور محبت اسے نرم مزاج بنا دیتی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی صرف وہاں ممکن ہوتی ہے جہاں اعتماد کا ماحول ہو۔ جس انسان کو یہ احساس ہو کہ اس کی کوشش کو دیکھا جا رہا ہے، وہ مزید بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جسے ہر قدم پر صرف اس کی ناکامیوں کا احساس دلایا جائے، وہ ایک وقت کے بعد کوشش کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی میں تنقید سے زیادہ حوصلہ افزائی کی گنجائش ہوتی ہے۔ وہاں اصلاح ضرور ہوتی ہے، مگر تذلیل نہیں۔ وہاں اختلاف ضرور ہوتا ہے، مگر احترام ختم نہیں ہوتا۔ اچھا شریکِ حیات شخصیت پر حملہ نہیں کرتا بلکہ رویے پر بات کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ "تم برے ہو"، بلکہ یہ کہتا ہے کہ "یہ انداز بہتر ہو سکتا ہے۔"
یہ فرق معمولی دکھائی دیتا ہے، مگر رشتوں کی پوری سمت بدل دیتا ہے۔
محبت کی ایک اور غلط فہمی بھی ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محبت کا اظہار صرف بڑے تحفوں، غیر معمولی قربانیوں یا خاص مواقع سے ہوتا ہے، حالانکہ ازدواجی زندگی میں محبت کی اصل زبان روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے جملے ہیں۔ دل سے کہا گیا ایک "شکریہ"، کسی مشکل وقت میں ادا کیا گیا "میں تمہارے ساتھ ہوں"، یا کسی ناکامی کے بعد صرف اتنا کہنا کہ "ہم مل کر اس مسئلے سے نکل آئیں گے" — یہ وہ الفاظ ہیں جو دلوں میں اعتماد کو زندہ رکھتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایک تلخ جملہ برسوں کی محبت کو زخمی کر سکتا ہے۔
زندگی کا تجربہ بتاتا ہے کہ کامیاب شادیاں بے عیب انسانوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ بالغ نظر انسانوں کی وجہ سے کامیاب ہوتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی خامیوں سے واقف ہوتے ہیں، مگر ان خامیوں کو رشتے کی آخری حقیقت نہیں بننے دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان کا تعارف اس کی ایک غلطی نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کی نیت اور اس کی مسلسل جدوجہد ہے۔
شاید اسی لیے عمر رسیدہ خوش حال جوڑوں کے چہروں پر ایک خاص اطمینان دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے بھی زندگی کی سختیاں دیکھی ہوتی ہیں، اختلافات بھی برداشت کیے ہوتے ہیں اور آزمائشوں سے بھی گزرے ہوتے ہیں، مگر ان کے درمیان اعتماد کی ڈور کبھی کمزور نہیں پڑتی۔ وہ ایک دوسرے کو بدلنے کے لیے نہیں، سنوارنے کے لیے ساتھ چلتے ہیں۔
گوئٹے کا قول ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ انسان کو صرف اس کی موجودہ حالت میں نہ دیکھو، بلکہ اس کے امکانات کو بھی پہچانو۔ اگر یہ اصول استاد اپنے شاگرد کے ساتھ اپنائے تو ایک بہتر طالب علم پیدا ہوتا ہے، اگر والدین اپنی اولاد کے ساتھ اپنائیں تو ایک پُراعتماد شخصیت پروان چڑھتی ہے، اور اگر میاں بیوی اسے اپنی مشترکہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو صرف ایک رشتہ نہیں، دو زندگیاں سنور جاتی ہیں۔
 کامیاب ازدواجی زندگی کی سب سے جامع تعریف یہی ہے کہ دو انسان ایک دوسرے کی خامیوں کے نگہبان نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کے محافظ بن جائیں۔ وہ ایک دوسرے کے زخموں پر نمک نہ چھڑکیں بلکہ مرہم رکھیں، ایک دوسرے کے خوف میں اضافہ نہ کریں بلکہ امید جگائیں، اور ایک دوسرے کو یہ احساس دلاتے رہیں کہ وہ اپنی موجودہ کمزوریوں سے کہیں بڑے انسان ہیں۔
آخرکار، محبت کی معراج صرف یہ نہیں کہ وہ انسان کو ویسا قبول کرے جیسا وہ آج ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اس پر اتنا یقین کرے کہ وہ کل واقعی بہتر انسان بن جائے۔
شاید اسی ایک حقیقت میں گوئٹے کے قول کا پورا فلسفہ پوشیدہ ہے، اور شاید ایک کامیاب شادی کا راز بھی۔

Comments